منگل 14 اپریل 2026 - 15:02
قائدِ ملّت جعفریہ پاکستان کا آیت الله اعرافی کے نام پیغام: امریکی اور صیہونی جارحیت کے خلاف ایرانی مؤمن اور بابصیرت قوم کی استقامت ناقابلِ بیان ہے

حوزہ/قائدِ ملّت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امریکی اور غاصب اسرائیل کی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جارحیت اور رہبر انقلاب اسلامی کی المناک شہادت پر ایرانی دینی مدارس کے سربراہ کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ امریکی اور صیہونی جارحیت کے خلاف ایرانی مؤمن اور بابصیرت قوم کی استقامت ناقابلِ بیان ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائدِ ملّت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے پیغام کا تفصیلی متن مندرجہ ذیل ہے۔

حوزہ ہائے علمیہ ایران کے سربراہ عزت مآب آیت الله الحاج شیخ علی رضا اعرافی دام عزہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

انتہائی دکھ اور غم کے ساتھ، 28 فروری 2026 کی صبح، رہبرِ انقلابِ اسلامی کی شہادت کی دل دہلا دینے والی اور افسوسناک خبر نے قلوب کو دکھی اور غمگین کردیا اور کچھ لمحوں کے لیے حیرت اور سرگردانی کی کیفیت روح و قلب پر چھا گئی اور زبان اسے بیان کرنے سے قاصر رہی۔ تاہم، خدا کی حکیمانہ مرضی کے آگے سر تسلیم خم کر کے ہم نے دلوں کو صبر جمیل اور سکون کی طرف دعوت دینے کی کوشش کی۔

اس عظیم مصیبت کے پیشِ نظر پاکستان بھر کے مؤمنین و عقیدت مندوں میں ہمدردی اور تعزیت کی ایک لہر دوڑ گئی جو آج بھی جوش و خروش اور خلوص کے ساتھ جاری ہے۔ بلاشبہ امریکہ اور صیہونیت کا سفاکانہ اور مجرمانہ فعل ایک ناقابلِ معافی جرم اور اس کے مرتکب افراد کے سیاہ کارنامے پر ایک ابدی ننگ اور داغ ہے کہ جس کا کوئی جواز تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

اس سانحے کے بعد، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کے جارحانہ حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا؛ لیکن ایران کی مؤمن، صاحبِ بصیرت اور قابلِ فخر قوم نے قابلِ ستائش استقامت اور پختہ عزم کے ساتھ اس مسلط کردہ جنگ کے خلاف ڈٹ کر میدان میں وسیع اور پرجوش موجودگی کے ساتھ، اسلامی مقدس نظام کی حمایت کا ثبوت دیا۔ سڑکوں اور چوراہوں پر عوامی اجتماعات اس وفاداری اور بیداری کا واضح مظہر ہیں جو جاری ہیں اور ان اجتماعات نے عالمی استکبار اور انقلابِ اسلامی کے دشمنوں کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اور سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے ایثار و قربانی کے جذبے کے ساتھ تمام میدانوں میں اسلام اور وطن عزیز کا دفاع کیا ہے اور دشمن کے حملوں کا مقابلہ ایک مضبوط بنیاد کی طرح کیا ہے؛ یہ ایک ایسی حقیقت جسے دوست اور دشمن دونوں تسلیم کر چکے ہیں۔

پاکستانی مؤمنین کے ہاتھ اسلامی نظام کی حفاظت کے لیے خدا کی بارگاہ میں بلند ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اسلامی جمہوریہ ایران کی عزت، اقتدار اور استحکام کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں۔

بلاشبہ اس مسلط کردہ جنگ نے آغاز سے ہی اسلامی جمہوریہ ایران کو بڑے پیمانے پر انسانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے؛ یوں ممتاز ترین کمانڈروں اور اولین درجے کی شخصیات نے اس الٰہی نظام کی سربلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور ملت ایران کی قربانیاں بھی امت اسلامیہ کے سامنے واضح ہیں۔ ایثار و جہاد کا یہ جذبہ نہ صرف تھم گیا ہے، بلکہ روز بروز بڑھتا چلا جا رہا ہے اور انقلاب کے نورانی راستے کو جاری رکھنے کا ایک لازوال اثاثہ بن گیا ہے۔

انسانی جانی نقصان کے علاوہ ملک کے اہم انفراسٹرکچر کو بھی دشمن نے حملوں سے نشانہ بنایا ہے اور شہری مراکز، ہسپتالوں، ہوائی اڈوں، صنعتی مراکز، کھیلوں کے مقامات، اہم شاہراہوں، ریلوے، پلوں، سکولوں اور دیگر اہم تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

اس جارحیت کے آغاز کے بعد سے ہم نے پاکستان کے ملکی میڈیا کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فورمز اور میڈیا کے ذریعے ان جرائم کی مسلسل مذمت کی ہے۔ نیز اس جارحیت کی مذمت کے لیے ملک بھر میں عوامی اجتماعات اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں اور مختلف پروگراموں میں مظلوم ایرانی قوم کی آواز کو دنیا کے کانوں تک پہنچایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کے متاثرین کے لیے مالی امداد جمع کرنے کا عمل بھی جاری ہے اور یہ امداد باقاعدہ طور سے اسلام آباد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے تک پہنچائی جا رہی ہے۔

دکھ اور سوگ کی فضاء، آج بھی ہمارے دلوں پر سایہ فگن ہے اور اس گہرے زخم کے مندمل ہونے کے لیے وقت درکار ہے۔ تاہم ہمیں پختہ یقین ہے کہ دانشمند رہبر، ان کے وفادار ساتھیوں اور دیگر مؤمنین کی شہادت، انقلابِ اسلامی کی بنیادوں کو مزید گہرا اور مضبوط کرے گی۔ بلاشبہ شہداء کا پاکیزہ خون اس تحریکِ الٰہی کی بقاء، ترقی اور وسعت کا ضامن ہے اور اس کے اثرات و برکات تاریخ میں ہمیشہ باقی رہیں گے اور حق و انصاف کے تابناک چہرے کو مزید روشن کر دیں گے۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ جناب عالی کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائے۔

والسلام، سید ساجد علی نقوی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha